فهرس الكتاب

الصفحة 151 من 457

گفتگو میں وضاحت اور ٹھہراؤ

ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تیز تیز نہ بولتے تھے،بلکہ آپ کی گفتگو میں اس قدر ٹھہراؤ اور وضاحت ہوتی کہ ہر سننے والا اس کو خوب اچھی طرح سمجھ سکتا تھا۔ اس بارے میں توفیقِ الٰہی سے تین احادیثِ شریفہ ذیل میں پیش کی جا رہی ہیں:

۱۔حدیث جابر رضی اللہ عنہ:

امام ابو داود رحمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا؛

'' کَانَ فِي کَلَامِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم تَرْتِیْلٌ أَوْتَرْسِیْلٌ'' [1]

'' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتار میں ترتیل [ یا ترسیل ] تھی۔''

امام طیبی رحمہ اللہ تعالیٰ شرح حدیث میں رقم طراز ہیں:

'' [تَرْتِیْلٌ وَّ تَرْسِیْلٌ] تَرْتِیْلُ الْقِرَائَ ۃِ التَّأَنِيْ فِیْھَا وَالتَّمَھُّلُ وتَبیِیْنُ الْحُرُوفِ وَالْحَرَکَاتِ۔'' [2]

''قرأت کی ترتیل سے مراد اس میں ٹھہراؤ،توقف اور حروف وحرکات کا خوب واضح کرنا ہے۔''

ملا علی قاری رحمہ اللہ تعالیٰ رقم طراز ہیں:

'' إِنَّ الْمُرَادَ مِنْھَا أَنَّہٗ کَانَ لَا یُْعَجِّلُ فِي إِرْسَالِ الْحُرُوْفِ،

[2] شرح الطیبي۱۲/۳۷۰۹۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت