فهرس الكتاب

الصفحة 260 من 457

٭ جنت میں داخل کرنے والے اعمال کا ذکر فرماتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت پر آسانی اور سہولت فرمائی۔ [کسی نفس کو آزاد کرنے ] سے جنت میں داخل کروانے والے اعمال کا آغاز فرما کر بات کو یہاں تک پہنچایا کہ کچھ اور کرنے کی استطاعت نہ ہو تو [خیر کے علاوہ اپنی زبان کو روکے رکھو] ۔ [1]

۴۔ اچھے سوال کی بنا پر ایک اور بدو کی تعریف:

امام مسلم رحمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے رو ایت نقل کی ہے کہ:

'' إِنَّ أَعْرَابِیًّا عَرَضَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم وَھُوَ فِيْ سَفَرٍ، فَأَخَذَ بِخِطَامِ نَاقَتِہٖ أَوْ بِزِمَامِھَا، ثُمَّ قَالَ:'' یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! أَوْیَا مُحَمَّدُ صلی اللّٰه علیہ وسلم ! أَخْبِرْنِي بِمَا یَُقَرِّبُنِيْ مِنَ الْجَنَّۃِ وَمَا یُبَاعِدُنِيْ مِنَ النَّارِ''۔

قَالَ:'' فَکَفَّ النَّبِيُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم، ثُمَّ نَظَرَ فِي أَصْحَابِہٖ، ثُمَّ قَالَ:''لَقَدْ وُفِّقَ أَوْ لَقَدْ ھُدِيَ۔'' قَالَ:کَیْفَ قُلْتُ؟

قَالَ:فَأَعَادَ۔

فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم:'' تَعْبُدُ اللّٰہَ وَلَا تُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا، وَتُقِیْمُ الصَّلَاۃَ، وَتُوْتِي الزَّکَاۃَ، وَتَصِلُ الرَّحِمَ، دَعِ النَّاقَۃَ''۔ [2]

''بے شک ایک اعرابی دورانِ سفر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو آیا، آپ کی اونٹنی کی لگام کو تھاما، پھر کہنے لگا:'' یا رسول اللہ ! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) یا [3] …یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے وہ عمل بتلائیے جو مجھے جنت سے قریب کر دے اور [جہنم کی ] آگ سے دور کر دے۔''

راوی نے بیان کیا:'' نبی صلی اللہ علیہ وسلم رُک گئے، پھر آپ نے اپنے صحابہ کی طرف دیکھا، پھر ارشاد فرمایا:'' بلا شبہ یہ [بدو اپنے سوال میں ] توفیق خیر عطا

[2] صحیح مسلم، کتاب الإیمان، باب بیان الإیمان الذي یدخل بہ الجنۃ، وأن من تمسک بما أمر بہ دخل الجنۃ، رقم الحدیث۱۲ (۱۳) ، ۱/۴۲۔۴۳۔

[3] راوی کو تردد ہے کہ اس بدو نے (یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !) کہا یا (یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم !) کے ساتھ ندا دی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت