فهرس الكتاب

الصفحة 123 من 457

أَعْظَمُ؟ ''۔

قَالَ:قُلْتُ:'' اَللّٰہُ لَا إِلٰہَ إِلاَّ ھُوَ الْحَيُّ الْقَیُّوْمُ۔''

قَالَ:فَضَرَبَ فِيْ صَدْرِيْ، وَقَالَ:'' وَاللّٰہِ! لِیَھْنِکَ الْعِلْمُ أَبَاالْمُنْذِرِ! ''۔ [1]

'' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:'' اے اباالمنذر! کیا تجھے خبر ہے کہ تیرے پاس کتاب اللہ کی کون سی آیت سب سے زیادہ عظیم ہے؟''

انہوں نے بیان کیا:'' میں نے عرض کیا:'' اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جانتے ہیں۔''

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:'' اے اباالمنذر ! کیا تو جانتا ہے کہ تیرے پاس کتاب اللہ کی کون سی آیت سب سے زیادہ عظمت والی ہے؟''

انہوں نے بیان کیا:میں نے عرض کیا:''اَللّٰہُ لَا اِلٰہَ اِلاَّ ھُوَ الْحَيُّ الْقَیُّوْم۔ُ''

انہوں نے بیان کیا:'' آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے میں مارا اور فرمایا:اللہ تعالیٰ کی قسم اباالمنذر !تجھے علم مبارک ہو۔''

اس حدیث شریف میں ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت الکرسی کی شان و عظمت اجاگر کرنے سے پیشتر حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو دو دفعہ ان کی کنیت [اباالمنذر] کے ساتھ ندا دی اور ان کے صحیح جواب بتلانے پر شاباش دیتے ہوئے پھر انہیں کنیت کے ساتھ پکارا۔

حدیث شریف میں دیگر فوائد:

حدیث شریف میں موجود دیگر فوائد میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت