فهرس الكتاب

الصفحة 200 من 457

اسلوب تقابل

تفہیم درس میں ممدو معاون باتوں میں سے ایک یہ ہے کہ اضداد کے درمیان تقابل پیش کیا جائے۔ مشہور ضرب المثل ہے: [ وَبِضِدِّھَا تَتَبَیَّنُ الْأَشْیَائُ] ''چیزوں کا نکھار اپنی اضداد کے ساتھ ہوتا ہے۔''

ہمارے نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم اس اسلوب کو کثرت سے استعمال فرماتے۔ توفیقِ الٰہی سے ذیل میں اس بارے میں تین مثالیں پیش کی جا رہی ہیں:

۱۔دنیا و آخرت کے درمیان تقابل:

امام مسلم رحمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت قیس سے روایت کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا:''میں نے مستورد رضی اللہ عنہ کو،جو کہ قبیلہ بنو فہر کے ہیں، بیان کرتے ہوئے سنا:

'' قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم:'' وَاللّٰہِ! مَا الدُّنْیَا فِي الآخِرَۃِ إِلاَّ مِثْلُ مَا یَجْعَلُ أَحَدُکُمْ إِصْبَعَہٗ ھٰذِہٖ وَأَشَارَ یَحْیٰی بِالسَّبَابَۃِ فِي الْیَمِّ، فَلْیَنْظُرْ بِمَ تَرْجِعُ؟ ''۔ [1]

''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:''اللہ تعالیٰ کی قسم! دنیا آخرت کے مقابلے میں ایسے ہی ہے،جس طرح کہ تم میں سے ایک اپنی انگلی سمندر میں رکھے… یحییٰ [2] نے شہادت والی اُنگلی سے اشارہ کیا… پھر دیکھے کہ وہ [اپنے ہمراہ] کیا لے کر پلٹتی ہے؟''

[2] (یحییٰ) :حدیث کے ایک راوی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت