فهرس الكتاب

الصفحة 310 من 457

طلبہ کو یاد دہانی کرانے کی اجازت

ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرات صحابہ کو اس بات کی اجازت دے رکھی تھی کہ وہ آپ کے بھول جانے کی صورت میں یاد دہانی کروائیں۔ صرف یہی نہیں، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ایسا کرنے کی ترغیب دیتے اور ان کی یاد دہانی کے درست ہونے کی صورت میں اس کے مطابق عمل فرماتے۔ سیرت طیبہ میں اس سلسلے میں موجود شواہد میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:

۱۔ نماز کے بار ے میں یاد دہانی:

امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ تعالیٰ نے حضرت اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا:

'' رَدِفْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم مِنْ عَرَفَاتٍ، فَلَمَّا بَلَغَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم الشِّعبَ الْأَیْسَرَ الّذِيْ دُوْنَ الْمُزْدَلِفَۃِ أَنَاخَ، فَبَالَ، ثُمَّ جَائَ فَصَبَبْتُ عَلَیْہِ الْوَضُوْئَ، فَتَوَضَّأَ وُضُوء ًا خَفِیْفًا، فَقُلْتُ:''اَلصَّلَاۃُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم ؟''۔

قَالَ:'' اَلصَّلَاۃُ أَمَامَکَ''۔

فَرَکِبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم، حَتَّی أَتَی الْمُزْدَلِفَۃَ فَصَلَّی۔'' [1]

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت