فهرس الكتاب

الصفحة 202 من 457

رَاغِمَۃٌ۔ وَمَنْ کَانَتِ الدُّنْیَا ھَمَّہٗ جَعَلَ اللّٰہُ الْفَقْرَ بَیْنَ عَیْنَیْہِ، وَفَرَّقَ عَلَیْہِ شَمْلَہٗ، وَلَمْ یَأْتِہِ مِنَ الدُّنْیَا إِلاَّ مَا قُدِّرَ لَہٗ۔'' [1]

''جس شخص کا قصد آخرت ہو،اللہ تعالیٰ اس کے دل میں تونگری ڈال دیتے ہیں،ا س کے معاملات کو سدھار دیتے ہیں اور دنیا ذلیل ہو کر اس کے پاس آتی ہے اور جس کامقصود دنیا ہو،اللہ تعالیٰ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان فقر رکھ دیتے ہیں، اس کے معاملات کو بگاڑ دیتے ہیں اور دنیا میں اس کو وہی میسر آتا ہے،جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے لکھاتھا۔''

اس حدیث شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آخرت اور دنیا کے چاہنے والوں کے درمیان تقابل کرتے ہوئے طالبِ آخرت کو دنیا ہی میں ملنے والے انعامات اور طالبِ دنیا کو دنیا ہی میں ملنے والی سزا سے امت کو آگاہ فرمایا۔

۳۔دنیا میں انتہائی نعمتوں والے جہنمی اور انتہائی مشقتوں والے جنتی کا تقابل:

امام مسلم رحمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا:

'' قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم:'' یُؤْتٰی بِأَنْعَمِ أَھْلِ الدُّنْیَا مِنْ أَھْلِ النَّارِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، فَیُصْبَغُ فِي النَّارِ صَبْغَۃً، ثُمَّ یُقَالَ '' یَا ابْنَ آدَمَ! ھَلْ رَأَیْتَ خَیرًا قَطُّ؟ ھَلْ مَرَّبکَ نَعِیْمٌ قَطُّ؟''۔

فَیَقُولُ:'' لاَ، وَاللّٰہِ! یَا رَبِّ!''۔

وَیُؤْتٰی بِأَشَدِّ النَّاسِ بُؤْسًا فِي الدُّنْیَا مِنْ أَھْلِ الْجَنَّۃِ، فَیُصْبَغُ صَبْغَۃً فِي الْجَنَّۃِ، فَیُقَالُ لَہٗ:'' یَا ابْنَ آدَمَ! ھَلْ رَأَیْتَ بُؤْسًا قَطُّ؟ ھَلْ مَرَّ بِکَ شِدَّۃٌ قَطُّ؟''۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت