فهرس الكتاب

الصفحة 299 من 457

اچھی طرح سمجھنے کی خاطر سوال جواب کی اجازت

علمی مسائل کے سمجھنے اور ان کے ذہن نشین کروانے والے عوامل میں سے ایک اہم بات یہ ہے کہ طلبہ کو ان کے بارے میں سوال جواب اور مباحثہ و مناقشہ کی اجازت ہو۔ حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم اچھی طرح سمجھنے کی غرض سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات عالیہ کے متعلق اپنے اشکالات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو پیش کرتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر خفگی کا اظہار نہ فرماتے، بلکہ کمال شفقت و عنایت سے ان کے اشکالات کا ازالہ فرماتے۔ اسی سلسلے میں سیرت طیبہ سے پانچ شواہد توفیق الٰہی سے ذیل میں پیش کیے جا رہے ہیں:

۱۔مبتلائے حساب کے عذاب کے متعلق سوال جواب:

امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ تعالیٰ نے ابن ابی ملیکہ سے روایت نقل کی ہے کہ:

'' أَنَّ عَائِشَۃَ رضی اللّٰه عنہا زَوْجَ النَّبِيِّ صلی اللّٰه علیہ وسلم کَانَتْ لَا تَسْمَعُ شَیْئًا لَا تَعْرِفُہٗ إِلاَّ رَاجَعَتْ فِیْہِ حَتّی تَعْرِفَہُ، وَأَنَّ النَّبِيَّ صلی اللّٰه علیہ وسلم قَالَ:''مَنْ حُوْسِبَ عُذِّبَ''۔

قَالَتْ عَائِشَۃُ رضی اللّٰه عنہا:قُلْت:''أَوَلَیْسَ یَقُوْلُ اللّٰہُ تَعَالَی: {فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًا} [1] ''۔

قَالَتْ:فَقَالَ:'' إِنَّمَا ذَلِکَ الْعَرْضُ، وَلٰکِنْ مَنْ نُوقِشَ فِي الْحِسَابِ یَھْلِکُ''۔ [2]

''بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا جب کوئی ایسی بات

[2] متفق علیہ:صحیح البخاري، کتاب العلم، رقم الحدیث ۱۰۳، ۱/۱۹۶۔۱۹۷؛ وصحیح مسلم، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا وأھلھا، باب إثبات الحساب، ۴/ ۲۲۰۴۔ الفاظ حدیث صحیح البخاری کے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت