فهرس الكتاب

الصفحة 134 من 457

۳۔ معاذ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ کو تھامنا:

امام ابو داود اور امام ابن حبان رحمہما اللہ تعالیٰ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ:

'' أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم أَخَذَ بِیَدِہٖ، وَقَالَ:'' یَا مُعَاذُ! وَاللّٰہِ! إِنِّي لَأُحِبُّکَ ''۔

فَقَال:'' أُوْصِیْکَ یَا مُعَاذُ!لاَ تَدَعَنَّ فِي دُبُرِ کُلِّ صَلاَۃٍ تَقُولُ:اَللَّھُمَّ أَعِنِّي عَلَی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ''۔

''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ کو پکڑا اور فرمایا:'' اے معاذ! اللہ تعالیٰ کی قسم! بلا شک و شبہ میں تجھ سے محبت کرتا ہوں۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:''اے معاذ! میں تجھے وصیت کرتا ہوں کہ تو کسی فرض نماز کے بعد یہ کہنا نہ چھوڑنا:

''اَللَّھُمَّ أَعِنِّي عَلَی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ''۔

[اے میرے اللہ! اپناذکر کرنے، اپنا شکر کرنے اور اپنی عمدہ عبادت کرنے میں میری اعانت فرما۔]

وَأَوْصٰی بِذَلِکَ مُعَاذٌ الصُّنَابِحِيَّ، وَأَوْصٰی بِہِ الصُّنَابِحيُّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ رضی اللّٰه عنہم ''۔ [1]

''اسی بات کی وصیت معاذ رضی اللہ عنہ نے الصنابحی [2] کو اور الصنابحی نے

[2] (الصنابحی) :حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے شاگرد۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت