پھر اس کو [جہنم کی ] آگ میں پھینک دیا جائے گا۔''
اس حدیث شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے گفتگو کا آغاز صحابہ سے [مفلس ] کے متعلق استفسار سے فرمایا۔ جب وہ ٹھیک جواب نہ دے پائے،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں درست جواب سے آگاہ فرمایا۔
امام مسلم رحمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے استفسار فرمایا:
'' أَتَدْرُوْنَ مَا الْغِیْبَۃُ؟''۔
قَالُوْا:'' اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ أَعْلَمُ''۔
قَالَ:'' ذِکْرُکَ أَخَاکَ بِمَا یَکْرَہُ''۔
قِیْلَ:'' أَفَرَأَیْتَ إِنْ کَانَ فِي أَخِيْ مَا أَقُوْلُ؟''۔
قَالَ:'' إِنْ کَانَ فِیْہِ مَا تَقُوْلُ فَقَدِ اغْتَبْتَہٗ، وَإِنْ لَمْ یَکُنْ فِیْہِ مَا تَقُوْلُ، فَقَدْ بَھَتَّہٗ''۔ [1]
''کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے؟
انہوں نے عرض کیا:''اللہ تعالیٰ اور ان کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جانتے ہیں۔''
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:'' اپنے بھائی کے متعلق تمہارا وہ بات ذکر کرنا جس کو وہ ناپسند کرتا ہو۔''
عرض کیا گیا:'' اگر میرے بھائی میں میری کہی ہوئی بات موجود ہو،تو