فهرس الكتاب

الصفحة 226 من 457

پھر اس کو [جہنم کی ] آگ میں پھینک دیا جائے گا۔''

اس حدیث شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے گفتگو کا آغاز صحابہ سے [مفلس ] کے متعلق استفسار سے فرمایا۔ جب وہ ٹھیک جواب نہ دے پائے،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں درست جواب سے آگاہ فرمایا۔

۳۔غیبت کے متعلق سوال:

امام مسلم رحمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے استفسار فرمایا:

'' أَتَدْرُوْنَ مَا الْغِیْبَۃُ؟''۔

قَالُوْا:'' اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ أَعْلَمُ''۔

قَالَ:'' ذِکْرُکَ أَخَاکَ بِمَا یَکْرَہُ''۔

قِیْلَ:'' أَفَرَأَیْتَ إِنْ کَانَ فِي أَخِيْ مَا أَقُوْلُ؟''۔

قَالَ:'' إِنْ کَانَ فِیْہِ مَا تَقُوْلُ فَقَدِ اغْتَبْتَہٗ، وَإِنْ لَمْ یَکُنْ فِیْہِ مَا تَقُوْلُ، فَقَدْ بَھَتَّہٗ''۔ [1]

''کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے؟

انہوں نے عرض کیا:''اللہ تعالیٰ اور ان کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جانتے ہیں۔''

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:'' اپنے بھائی کے متعلق تمہارا وہ بات ذکر کرنا جس کو وہ ناپسند کرتا ہو۔''

عرض کیا گیا:'' اگر میرے بھائی میں میری کہی ہوئی بات موجود ہو،تو

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت