فهرس الكتاب

الصفحة 222 من 457

طلبہ سے استفسار

استاد کے طلبہ سے استفسار میں غورو فکر کی دعوت، بتلائی جانے والی بات کی طرف کلی توجہ کے لیے تنبیہ اور بات سمجھنے کی قوی ترغیب ہوتی ہے۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بسا اوقات بات بتلانے سے پہلے اسی موضوع کے متعلق شاگردوں سے استفسار فرمایا کرتے تھے۔ توفیقِ الٰہی سے ذیل میں اس سلسلے میں تین شواہد پیش کیے جا رہے ہیں:

۱۔مسلمان جیسے درخت کے متعلق استفسار:

امام بخاری رحمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا:

'' قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم:''إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَۃً لاَ یَسقُطُ وَرَقُھَا، وَإِنَّھَا مَثَلُ الْمُسْلِمِ، فَحَدِّثُوْنِيْ مَا ھِيَ؟''۔

فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِالْبَوَادِيْ۔

قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ رضی اللّٰه عنہ:'' وَوَقَعَ فِيْ نَفْسِيْ أَنَّھَا النَّخْلَۃُ، فَاْستَحْیَیْتُ''۔

ثُمَّ قَالُوا:'' حَدِّثْنَا مَا ھِيَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم !''۔

قَالَ:''ھِيَ النَّخْلَۃُ ''۔ [1]

''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:''درختوں میں سے ایک درخت ایسا ہے کہ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت