ایک دوسرے مقام پر حضرت امام رحمہ اللہ تعالیٰ نے عنوانِ باب بایں الفاظ تحریر فرمایا ہے:
[بَابُ الْفَھْمِ فِيالْعِلْمِ] [1]
[علم میں سمجھ بوجھ سے کام لینے کے متعلق باب]
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالیٰ نے حدیث شریف کی شرح میں تحریر کیاہے:
'' وَفِیْہِ التَّحْرِیْضُ عَلَی الْفَھْمِ فِي الْعِلْمِ، وَقَدْ بَوَّبَ عَلَیْہِ الْمُؤَلِّفُ: [بَابُ الْفَھْمِ فِي الْعِلْمِ] '' [2]
''اس [حدیث شریف ] میں [حصول] علم کے لیے سمجھ بوجھ سے کام لینے کی ترغیب ہے۔ مؤلف نے اس حدیث پر باب کا عنوان [علم میں سمجھ بوجھ سے کام لینے کے متعلق باب ] رکھا ہے۔''
علاوہ ازیں اس حدیث شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤمن کی کیفیت اور حالت کو مثال سے بیان فرمایا ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالیٰ نے تحریر کیا ہے:
'' وَفِیْہِ ضَرْبُ الْأَمْثَالِ وَالْأَشْبَاہِ لِزِیَادَۃِ الْإِفْھَامِ، وَتَصْوِیْرِ الْمَعَانِي لِتَرْسَخَ فِي الذِّھْنِ وَلِتَحْدِیْدِ الْفِکْرِ فِي النَّظرِ فِي حُکْمِ الْحَادثَۃِ''۔ [3]
''اس [حدیث] سے [بات کو ] اچھی طرح سمجھانے اور معانی کی تصویر کشی کے لیے مثالوں کا ذکر کرنا اور تشبیہ دینا ثابت ہوتا ہے تاکہ بات ذہن نشین ہو جائے اور پیش آمدہ بات پر توجہ مرکوز ہو جائے۔''
[2] فتح الباري ۱/۱۴۶۔
[3] المرجع السابق۱/۱۴۷۔ اس بارے میں تفصیل کتاب ھذا کے صفحات ۱۸۶۔۱۹۳ پر دیکھئے۔