فهرس الكتاب

الصفحة 180 من 457

لکیروں اور شکلوں کا استعمال

ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بسا اوقات مسائل کو خوب اچھی طرح سمجھانے کی خاطر خطوط کھینچ کر اور مختلف شکلیں بنا کر بات کی وضاحت فرمایا کرتے تھے۔

توفیق الٰہی سے ذیل میں اس سلسلے میں چار مثالیں پیش کی جا رہی ہیں:

۱۔راہِ الٰہی اور شیطانی راہوں کے لیے خطوط کھینچنا:

امام احمد اور امام حاکم رحمہما اللہ تعالیٰ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا:

'' خَطَّ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم خَطًّا، ثُمَّ قَالَ:''ھٰذَا سَبِیْلُ اللّٰہِ''۔

ثُمَّ خَطَّ خُطُوْطًا عَنْ یَمِیْنِہٖ وَعَنْ شِمَالِہٖ، ثُمَّ قَالَ:ھٰذِہٖ سُبُلٌ''۔

قَالَ یَزِیْدُ:'' مُتَفَرِّقَۃٌ''۔

عَلیٰ کُلِّ سَبِیْلٍ مِّنْھَا الشَّیْطَانُ یَْدعُوْ إِلَیْہِ، ثُمَّ قَرَأَ: {وَأَنَّ ھَذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖ۔} '' [1]

'' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے ایک خط کھینچا، پھر فرمایا:'' یہ اللہ تعالیٰ کی راہ ہے۔''پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دائیں جانب اور اس کی بائیں جانب

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت