فهرس الكتاب

الصفحة 269 من 457

سوال سے زیادہ جواب

ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوال کرنے والے کی حاجت اور ضرورت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پوچھی گئی بات سے بسا اوقات زیادہ بھی بتا دیا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ مبارک طریقہ آپ کے عظیم علم، امت کے لیے کمال خیر خواہی اور تعلیم و تزکیہ کی شدید خواہش پر دلالت کناں ہے۔ اس سلسلے میں ذیل میں توفیق الٰہی سے چار شواہد پیش کیے جا رہے ہیں:

۱۔ سمندری پانی سے وضو کے سائل کو مردار سمندرکا حکم بتانا:

حضرات ائمہ احمد، ابو داؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ رحمہم اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ وہ بیان کرتے ہیں:

'' سَأَلَ رَجُلٌ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم فَقَالَ:'' یَا رَسُوْلَ اللّٰہ! إِنَّا نَرْکَبُ الْبَحْرَ، وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِیْلَ مِنَ الْمَائِ، فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِہٖ عَطِشْنَا، أَفَنَتَوَضَّأُ بِمَائِ الْبَحْرِ؟''۔

فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہُ صلی اللّٰه علیہ وسلم:''ھُوَ الطَّھُوْرُ مَاؤُہٗ، وَالْحِلُّ مَیْتَتُہ''۔ [1]

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت