فهرس الكتاب

الصفحة 230 من 457

رمز و کنایہ سے کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بار ے میں صرف یہ فرمایا:'' ایک عورت ان کے روبرو آئی اور ان سے بات کی اور انہوں نے انکار کر دیا۔''

امام ابن ابی جمرہ رحمہ اللہ تعالیٰ نے شرح حدیث میں تحریر کیا ہے:

''وَفِیْہِ دَلِیْلٌ عَلیٰ أَنَّ مِنْ أَدَبِ السُّنَّۃِ الْکِنَایَۃَ عَنِ الْأُمُورِ الْفَاحِشَۃِ۔'' [1]

''یہ [حدیث] اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ سنت سے ثابت شدہ ادب یہ ہے کہ قابل شرم باتوں کا ذکر کنایہ سے کیا جائے۔''

۲۔غسل حیض میں کنایہ:

امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ تعالیٰ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان فرمایا:

'' سَأَلَتِ امْرَأَۃٌ النَّبِيَّ صلی اللّٰه علیہ وسلم:'' کَیْفَ تَغْتَسِلُ مِنْ حَیْضَتِھَا؟''۔

قَال:'' فَذَکَرَتْ أَنَّہٗ عَلَّمَھَا کَیْفَ تَغْتَسِلُ ثُمَّ تَأْخُذُ فِرْصَۃً مِنْ مِسْکٍ فَتَطَھَّرُبِھَا''۔

قَالَتْ:'' کَیْفَ أَتَطَھَّرُبِھَا؟''۔

قَالَ:'' تَطَھَّرِيْ بِھَا سُبْحَانَ اللّٰہِ''۔ وَاسْتَتَر (وَأَشَارَلَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ بِیَدِہٖ عَلَی وَجْھِہٖ۔)

قَالَ:'' قَالَتْ عَائِشَۃُ رضی اللّٰه عنہا:'' وَاجْتَذَبْتُھَا إِلَيَّ، وَعَرَفْتُ مَا أَرَادَ النَّبِيُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم فَقُلْتُ:'' تَتَّبِعِيْ بِھَا أَثَرَ الدَّمِ''۔ [2]

[2] متفق علیہ:صحیح البخاري، کتاب الحیض، باب دلک المرأۃ نفسھا إِذا تطھّرت من المحیض، وکیف تغتسل …، رقم الحدیث۳۱۴،۱/۴۱۴؛ وصحیح مسلم، کتاب المحیض، باب استحباب استعمال المغتسلۃ من الحیض فِرصۃ من مسک في موضع الدم، رقم الحدیث ۶۰ (۳۳۲) ، ۱/۲۶۰۔ الفاظ حدیث صحیح مسلم کے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت