فهرس الكتاب

الصفحة 242 من 457

سوال کرنے کی اجازت

ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرات صحابہ کو مفید اور ضروری سوالات پوچھنے کی اجازت دے رکھی تھی۔ صرف یہی نہیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بوقت ضرورت سائل کو اعادہ سوال سے بھی نہ روکتے۔ اسی طرح ایک شخص کو ایک ہی مجلس میں متعدد کارآمد استفسارات کرنے سے بھی منع نہ فرماتے۔ سیرت طیبہ میں اس بارے میں موجود شواہد میں سے تین توفیق الٰہی سے ذیل میں پیش کیے جا رہے ہیں:

۱۔ایک ہی مجلس میں تین سوالات:

امام بخاری اور امام مسلم رحمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے کہا:

'' سَأَلْتُ النَّبِيَّ صلی اللّٰه علیہ وسلم:'' أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَی اللّٰہ؟''۔

قَالَ:'' اَلصَّلَاۃُ عَلیٰ وَقْتِھَا''۔

قَالَ:'' ثُمَّ أَيٌّ؟''۔

قَالَ:'' بِرُّ الْوَالِدَیْنِ''۔

قَالَ:ثُمَّ أَيٌّ؟ ''

قَالَ:''اَلْجِھَادُ فِي سَبِیْلِ اللّٰہِ''۔

قَالَ:'' حَدَّثَنِيْ بِھِنَّ، وَلَوِاسْتَزَدْتُّہُ لَزَادَنِي''۔ [1]

''میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا:''کون سا عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت