فهرس الكتاب

الصفحة 113 من 457

۲۔ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہا:

امام احمد رحمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا:

'' قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم:'' مَنْ تَکَلَّمَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، وَالإِمَامُ یَخْطُبُ، فَھُوَ کَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ أَسْفَارًا، وَالَّذِيْ یَقُولُ لَہٗ:''أَنْصِتْ'' لَیْسَ لَہٗ جُمُعَۃٌ ''۔ [1]

'' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:'' جس نے جمعہ کے دن خطبہ امام کے دوران گفتگو کی وہ گدھے کی مانند ہے،جس نے بڑی بڑی کتابیں اٹھا رکھی ہوں اور جس نے اس کو کہا:'' چپ ہو جاؤ'' اس کا جمعہ ہی نہیں۔''

خطبہ جمعہ کے دوران خاموش نہ رہنے کی وعید کس قدر سنگین اور خوف ناک ہے!

علاوہ ازیں بولنے والے کو چپ کروانے کی غرض سے بھی خاموش نہ رہنا انتہائی خسارے کا سودا ہے۔

۳۔ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک اور حدیث:

امام مسلم اور امام ابن خزیمہ رحمہما اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا:

'' قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم:''وَمَنْ مَسَّ الْحَصٰی فَقَدْ لَغَا ''۔ [2]

[2] صحیح مسلم، کتاب الجمعۃ، باب فضل من استمع وأنصت للخطبۃ،جزء من رقم الحدیث ۲۷ (۸۵۷) ، ۲/۵۸۸؛ وصحیح ابن خزیمۃ، کتاب الجمعۃ، جماع أبواب الأذان والخطبۃ في الجمعۃ، جزء من رقم الحدیث ۸۱۸، ۳/۱۵۹۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت