فهرس الكتاب

الصفحة 115 من 457

'' أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللّٰه علیہ وسلم قَالَ لَہُ فِيْ حَجَّۃِ الْودَاعِ:'' اسْتَنْصِتِ النَّاسَ ''۔

ثُمَّ قَالَ:'' لاَ تَرْجِعُوْا بَعْدِيْ کُفَّارًا یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ''۔ [1]

''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حجۃ الوداع میں فرمایا:'' لوگوں سے کہو کہ خاموش ہو جائیں۔''

پھر آپ نے فرمایا:میرے بعد کافر نہ ہو جانا،کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگ جاؤ۔''

۲:بلال رضی اللہ عنہ کو لوگوں کو خاموش کروانے کا حکم:

امام ابن المبارک رحمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا:

'' وَقَفَ النَّبِيُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم بِعَرَفَاتٍ، وَقَدْ کَادَتِ الشَّمْسُ أَنْ تَؤُوَبَ، فَقَالَ:'' یَا بِلاَلُ أَنْصِتْ لِيَ النَّاسَ ''۔

فَقَامَ بِلاَلٌ رضی اللّٰه عنہ، فَقَالَ:'' أَنْصِتُوْا لِرَسُولِ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم ''۔

فَأَنْصَتَ النَّاسُ، فَقَالَ:'' مَعْشَرَ النَّاسِ! أَتَانِيْ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ آنِفًا فَأَقْرَأَنِيْ مِنْ رَّبِي السَّلاَمَ۔'' …الحدیث۔'' [2]

'' نبی صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں کھڑے ہوئے اوراس وقت سورج غروب ہونے کے قریب تھا۔پس آپ نے فرمایا:'' اے بلال! لوگوں کو میرے لیے خاموش کرواؤ۔''پس بلال رضی اللہ عنہ اٹھے اور کہا:'' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چپ ہو جاؤ۔''

[2] نقلًا عن الترغیب والترہیب، کتاب الحج، الترغیب في الوقوف بعرفۃ، والمزدلفۃ، وفضل یوم عرفۃ، جزء من رقم الحدیث ۷، ۲/۲۰۳۔ شیخ البانی نے اس کو [صحیح لغیرہ] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو:صحیح الترغیب والترھیب۲؍۳۳) ۔ نیز ملاحظہ ہو:سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ،۴؍۱۶۳۔۱۶۴)۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت