فهرس الكتاب

الصفحة 126 من 457

قَالَ:'' قُلْتُ:'' اَللّٰہُ وَرَسُولُہٗ أَعْلَمُ ''۔

قَالَ:'' فَإِنَّ حَقَّ اللّٰہِ عَلَی الْعِبَادِ أَنْ یَّعْبُدُوہُ وَلاَ یُشْرِکُوْا بِہٖ شَیْئًا ''۔

ثُمَّ سَارَ سَاعَۃً، ثُمَّ قَالَ:'' یَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ!''۔

قُلْتُ:'' لَبَّیْکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم وَسَعْدَیْکَ ''۔

قَالَ:'' ھَلْ تَدْرِيُ مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَی اللّٰہِ إِذَا فَعَلُوْا ذَلِکَ؟ ''۔

قَالَ:'' قُلْتُ:'' اَللّٰہُ وَرَسُولُہٗ أَعْلَمُ ''۔

قَالَ:'' أَنْ لاَّ یُعَذِّبَھُمْ ''۔ [1]

'' میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا، میرے اور آپ کے درمیان کجاوہ کے آخری حصے کے سوا اور کچھ [حائل] نہ تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:'' اے معاذ بن جبل!''

میں نے عرض کیا:'' میں حاضر ہوں،میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اور آپ کی اطاعت گزاری میری سعادت ہے! آپ کی طاعت گزاری میں میری سعادت ہے!''

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر چلتے رہے، اور پھر فرمایا:'' اے معاذ بن جبل''

میں نے عرض کیا:'' لَـبَّـیْکَ یا رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم ! وَسَعْدَیْکَ''

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر چلے۔ پھر فرمایا:'' اے معاذ بن جبل''

میں نے عرض کیا:'' لَـبَّـیْکَ یارسول اللّٰہ صلی اللّٰه علیہ وسلم ! وَسَعْدَیْکَ''

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:'' کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کا بندوں پر کیا حق ہے؟''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت