فهرس الكتاب

الصفحة 159 من 457

اس حدیث شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے الفاظ مبارکہ [ اورجب تجھے غصہ آئے تو خاموش ہو جاؤ۔] دو مرتبہ دہرائے۔

ج:حدیث جابر رضی اللہ عنہ:

امام مسلم رحمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا:

'' خَلَتِ الْبِقَاعُ حَوْلَ الْمَسْجِدِ، فَأَرَادَ بَنُو سَلِمَۃَ أَنْ یَنْتَقِلُوْا

إِلیٰ قُرْبِ الْمَسْجِدِ۔ فَبَلَغَ ذٰلِکَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم فَقَالَ لَھُمْ:''إِنَّہٗ بَلَغَنِيْ أَ نَّکُمْ تُرِیْدُوْنَ أَنْ تَنْتَقِلُوْا قُرْبَ الْمَسجِدِ؟''۔

قَالُوْا:''نَعَمْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!قَدْ أَرَدْنَا ذَلِکَ''۔

فَقَالَ:'' یَا بَنِيْ سَلِمَۃَ! دِیَارَکُمْ تُکْتَبْ آثَارُکُمْ، دِیَارَکُمْ تُکْتَبُ آثَارُکُمْ''۔ [1]

'' مسجد [ نبوی ] کے گرد و پیش میں [ کچھ ] جگہیں خالی ہوئیں،تو بنو سلمہ نے مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارداہ کیا۔ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی،تو آپ نے فرمایا:'' یقینا مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ تم مسجد کے قریب متنقل ہونے کا ارادہ رکھتے ہو؟''

انہوں نے عرض کیا:'' جی ہاں،یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یقینا ہم نے اس بات کا ارادہ کیا ہے۔''

اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:'' اپنے گھروں کو چمٹے رہو، تمہارے قدموں کے نشانات لکھے جاتے ہیں۔ اپنے گھروں کو چمٹے رہو تمہارے قدموں کے نشانات لکھے جاتے ہیں۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت