فهرس الكتاب

الصفحة 215 من 457

قُلْنَا:اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ ''۔

فَسَکَتَ حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّہُ سَیُسَمِّیْہِ بِغَیْرِ اسْمِہِ، قَال:'' أَلَیْسَتْ بِالْبَلَدَۃِ الْحَرَامِ؟''۔

قَالَ:''فَإِنَّ دِمَائَ کُمْ وَأَمْوَالَکُمْ عَلَیْکُمْ حَرَامٌکَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ھٰذَا، فِيْ شَھْرِکُمْ ھٰذا، فِي بَلَدِکُمْ ھٰذَا، إِلیٰ یَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّکُمْ۔ أَلْاَھْلْ بَلَّغْتُ؟''

قَالُوْا:''نَعَمْ''۔

قَال:'' اَللّٰھُمَّ اشْھَدْ، فَلْیُبَلِّغ الشَّاھِدُ الْغَائِبَ، فَرُبَّ مُبَلَّغٍ أَوْعیٰ مِنْ سَامِعٍ، فَلَا تَرَ جِعُوْا بَعْدِيْ کَفَّارًا یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ۔'' [1]

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن ہمیں خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے کہا:

''کیا تمہیں معلوم ہے کہ آج کون سا دن ہے؟''

ہم نے عرض کیا:''اللہ تعالیٰ اور ان کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) زیادہ جانتے ہیں۔''

آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے، یہاں تک کہ ہم نے سمجھا ؛ آپ اس کا کوئی اور نام رکھیں گے۔ آپ نے فرمایا:''کیا یہ قربانی کا دن نہیں ؟''

ہم نے عرض کیا:''کیوں نہیں۔''

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:''یہ کون سا مہینہ ہے؟''

ہم نے عرض کیا:'' اللہ تعالیٰ اور ان کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) زیادہ جانتے ہیں۔''

آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے، یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ آپ اس کا

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت