فهرس الكتاب

الصفحة 335 من 457

انہوں نے بیان کیا:

''کُنْتُ غُلَامًا فِي حَجْرِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم، وَکَانَتْ یَدِيْ تَطِیْشُ فِي الصَّحْفَۃِ، فَقَالَ لِي رَسُوْلُ اللّٰہُ صلی اللّٰه علیہ وسلم:''یَا غُلَامُ! سَمِّ اللّٰہَ، وَکُلْ بِیَمِیْنِکَ، وَکُلْ مِمَّا یَلِیکَ''۔ [1]

''میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیرِ تربیت ایک بچہ تھا اور [دورانِ کھانا] میرا ہاتھ برتن میں گھومتا تھا، تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:'' اے بچے! بسم اللہ پڑھو، دائیں ہاتھ سے کھاؤ، اور [برتن میں ] اپنی قریبی جگہ سے کھاؤ۔''

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے زیرِ کفالت یتیم بچے کو آداب طعام کی تعلیم دیتے وقت کس قدر شفیق و مہربان تھے! امام ابو داودرحمہ اللہ تعالیٰ کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

'' اُدْنُ مِنِّيْ، فَسَمِّ اللّٰہَ، وَکُلْ بِیَمِیْنِکَ، وَکُلْ مِمَّا یَلِیْکَ۔'' [2]

''مجھ سے قریب ہو جاؤ، بسم اللہ پڑھو، دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے آگے سے کھاؤ۔''

اور امام ترمذی رحمہ اللہ کی روایت میں ہے:

'' اُدْنُ یَا بُنَيَّ۔'' [3]

''اے میرے چھوٹے بیٹے! قریب ہو جاؤ۔''

[2] سنن أبی داود، کتاب الأطعمۃ، باب الأکل بالیمین، جزء من رقم الحدیث ۳۷۷۱، ۱۰/۱۷۹۔ شیخ البانی نے اس حدیث کو [صحیح] کہا ہے۔ (صحیح سنن أبي داود ۲/۷۱۹) ۔

[3] جامع الترمذي، أبواب الأطعمۃ، باب ما جاء في التسمیۃ علی الطعام، جزء من رقم الحدیث ۱۹۱۸، ۵/۴۷۹۔۴۸۰۔ شیخ البانی نے اس حدیث کو [صحیح] کہا ہے۔ (ملاحظہ ہو:صحیح سنن الترمذي ۲/۱۶۷) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت