فهرس الكتاب

الصفحة 422 من 457

پلٹے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:'' ان کی طرف جائیے اور ان سے کہیے:''یقینا تم جہنمی نہیں ہو، بلکہ جنتی ہو۔''

۳۔ بیٹے کے غم میں غیر حاضر رہنے والے کے متعلق استفسار:

امام نسائی رحمہ اللہ تعالیٰ نے معاویہ بن قرہ سے روایت کی ہے اور انہوں نے اپنے باپ رضی اللہ عنہ سے کہ انہوں نے بیان کیا:

''کَانَ نَبِيُّ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم إِذَا جَلَسَ، یَجْلِسُ إِلَیْہِ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِہٖ، وَفِیْھِمْ رَجُلٌ لَہُ ابْنٌ صَغِیْرٌ، یَأْتِیْہِ مِنْ خَلْفِ ظَھْرِہٖ، فَیُقْعِدُہٗ بَیْنَ یَدَیْہِ، فَھَلَکَ فَامْتَنَعَ الرَّجُلُ أَنْ یَحْضُرَ الْحَلْقَۃَ لِذِکْرِ ابْنِہٖ، فَحَزِنَ عَلَیْہِ۔

فَفَقَدَہُ النَّبِيُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم، فَقَالَ:''مَالِيْ لاَ أَرَی فُلاَنًا؟''

قَالُوْا:'' یَا رَسُولَ اللّٰہِ! بُنَیَّہُ الَّذِيْ رَأَیْتَہٗ ھَلَکَ''۔

فَلَقِیَہُ النَّبِيُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم، فَسَأَلَہٗ عَنْ بُنَیِّہٖ، فَأَخْبَرَہُ أَنَّہٗ ھَلَکَ، فَعَزَّاہُ عَلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ:'' یَا فُلاَنُ! أَیُّمَا کَانَ أَحَبَّ إِلَیْکَ:أَنْ تَمَتَّعَ بِہٖ عُمُرَکَ أَوْ لاَ تَأْتِيَ غَدًا إِلَی بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ إلاَّ وَجَدْتَّہٗ قَدْ سَبَقَکَ إِلَیْہِ، یَفْتَحُہٗ لَکَ ''۔

قَالَ:'' یَا نَبِيَّ اللّٰہِ! بَلْ یَسْبِقُنِيْ إِلَی بَابِ الْجَنَّۃِ، فَیَفْتَحُھَا لِيْ، لَھُوَ أحَبُّ إِلَيَّ ''۔

قَالَ:'' فَذَاکَ لَکَ ''۔ [1]

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت