فهرس الكتاب

الصفحة 434 من 457

'' اِعْلَمْ أَنَّ ھٰذِہِ الوَاقِعَۃَ لاَ تَجُوزُ أَنْ تَکُونَ فِيْ جَمِیْعِ الْأَزْمَانِ لأَنَّ مَنْ یَقْدِرُ عَلَی تَعلُّمِ ھذہِ الْکلماتِ لا مُحَالَۃَ یَقدِرُ عَلَی تَعلُّمِ الْفَاتِحَۃِ، بَلْ تَأْوِیْلُہٗ لاَ أَسْتَطِیْعُ أَنْ أَتَعَلّمَ شَیْئًا مِنَ الْقُرْآنِ فِيْ ھٰذہِ السَّاعَۃِ، وَقَدْ دَخَلَ عَلَيَّ وَقْتُ الصَّلاَۃِ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْ تِلْکَ الصَّلاَۃِ لَزِمَہُ أَنْ یَتَعَلَّم۔'' [1]

'' جان لو کہ یہ بات تمام زمانوں کے لیے نہیں، کیونکہ جو شخص یہ کلمات سیکھ لیتا ہے وہ فاتحہ سیکھنے کی بھی لازمًا استطاعت رکھتا ہوگا۔ درحقیقت معنی یہ ہے کہ مجھ پر وقت نماز آچکا ہے اور میں فوری طور پر قرآن سے کچھ سیکھنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ نماز سے فارغ ہوکر اس پر سیکھنا لازم ہے۔''

۴۔ بھول کر نماز چھوڑنے والے کے لیے آسانی:

امام بخاری اور امام مسلم رحمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ:

'' أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم قَالَ:'' مَنْ نَسِيَ صَلاَۃً فَلْیُصَلِّھَا إِذَا ذَکَرَھَا، لاَ کَفَّارَۃَ لَھَا إِلاَّ ذٰلِکَ ''۔ [2]

'' یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:'' جو شخص نماز [پڑھنا] بھول جائے، تو جب بھی اس کو یاد آئے پڑھ لے، اس کے سوا اس پر اور کوئی کفارہ نہیں۔''

[2] متفق علیہ:صحیح البخاري، کتاب مواقیت الصلاۃ، باب من نسي صلاۃ فلیصل إذا ذکرھا، ولا یعید إلا تلک الصلاۃ، رقم الحدیث ۵۹۷، ۲ ؍ ۷۰ ؛ وصحیح مسلم، کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ، باب قضاء الصلاۃ الفائتۃ واستحباب تعجیل قضائھا، رقم الحدیث ۳۱۴ (۶۸۴) ، ۱ ؍ ۴۷۷ ؛ الفاظِ حدیث صحیح مسلم کے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت