فهرس الكتاب

الصفحة 436 من 457

قَالَ:'' لاَ ''۔

قَالَ:'' فَھَلْ تَسْتَطِیْعُ أَنْ تَصُومَ شَھْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ؟ ''۔

قَالَ:'' لاَ ''۔

قَالَ:'' فَھَلْ تَجِدُ مَا تُطْعِمُ سِتِّیْنَ مِسْکِیْنًا؟ ''۔

قَالَ:'' لاَ ''۔

قَالَ:'' ثُمَّ جَلَسَ، فَأُتِيَ النَّبِيُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم بِعَرَقٍ فِیْہِ تَمْرٌ، فَقَالَ:''تَصَدَّقْ بِھٰذَا ''۔

قَالَ:'' أَفْقَرَمِنَّا؟ فَمَا بَیْنَ لاَ بَتَیھَا أَھْلُ بَیْتٍ أَحْوَجَ إِلَیْہِ مِنَّا ''۔

فَضَحِکَ النَّبِيُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم حَتَّی بَدَتْ أَنْیَابُہٗ، ثُمَّ قَالَ:'' اِذْھَبْ فَأَطْعِمْہُ أَھْلَکَ ''۔ [1]

'' ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا:'' یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں تو تباہ ہوگیا۔''

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا:'' تجھے کس چیز نے تباہ کیا؟''

اس نے عرض کیا:'' میں نے رمضان [یعنی حالت روزہ] میں اپنی بیوی سے ازدواجی تعلقات قائم کرلیے۔''

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:'' کیا تم غلام آزاد کرنے کی استطاعت رکھتے ہو؟ ''

اس نے عرض کیا:'' نہیں۔''

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے استفسار فرمایا:'' کیا تم مسلسل دو ماہ کے روزے رکھ سکتے

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت