[185] یہاں حدیث سے مراد قرآن کریم ہے یعنی ان کے ساتھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ان کے اخروی انجام سے متنبہ کردیا ہے جس سے انہیں یقینًا دو چار ہونا پڑے گا اور موت کا وقت کسی کو معلوم نہیں لہٰذا ان کو جلد از جلد اس رسول پر اور اس کتاب پر ایمان لانا چاہیے ایسا نہ ہو کہ تم اپنی سوچ بچار میں یا اس کی مخالفت میں لگے رہو اور یکدم تمہیں موت آ جائے تو پھر افسوس اور حسرت کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔