[95] رَبِّ ارْجِعُوْنَ میں اپنے پروردگار سے ندا کے بعد جمع مذکر کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔ رَبِّ ارْجِعِنِیْ نہیں استعمال کیا گیا۔ جس کا غالبًا ترجمہ و مطلب یوں بنتا ہے کہ اے میرے پروردگار! میں تجھ سے التجا کرتا ہوں کہ یہ فرشتے جو میری جان نکالنے آئے ہیں یہ مجھے دنیا میں واپس لوٹا دیں۔ اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بے شمار مقامات پر فرشتوں کے عمل کو اپنا ہی عمل قرار دیتے ہوئے اس کی نسبت اپنی طرف بھی کی ہے۔ اس لحاظ سے یہ ترجمہ بھی درست ہے کہ اے میرے پروردگار! مجھے دنیا میں واپس بھیج دے۔