[43] لیکن موسیٰ علیہ السلام پر اس صورت حال کا کچھ بھی اثر نہ ہوا۔ انھیں اس بات کا یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے جو فتح و نصرت کے وعدے کر رکھے ہیں وہ یقینًا پورے ہوں گے۔ اور اس مصیبت سے نجات کے لئے بھی اللہ ضرور کوئی راہ نکال دے گا۔ لہٰذا انہوں نے گھبرائے ہوئے بنی اسرائیل کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ فرعون تمہارا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مدد ہمارے شامل حال ہے وہ ان حالات میں بھی ضرور ہماری رہنمائی فرمائے گا۔