فهرس الكتاب

الصفحة 2506 من 6348

[5] ایسی تدابیر اختیار کرنے کے بارے میں ان کے درمیان جو خفیہ مجلس منعقد ہوتی اور سازشیں تیار ہوتی تھیں۔ وہ طشت از بام تو ہو ہی جاتی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب باتوں کے جواب میں صرف اتنا ہی کہا کہ کوئی بات خواہ کتنی ہی رازداری سے کی جائے، میرا پروردگار اس سے پوری طرف واقف ہے۔ بالفاظ دیگر اس کا مطلب یہ تھا کہ تمہاری ان ساری سرگرمیوں کے باوجود اللہ اپنے دین کی دعوت کے کام کو آتے بڑھاتا رہے گا اور تمہاری کوئی تجویز کارگر نہ ہونے پائے گی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت