فهرس الكتاب

الصفحة 2648 من 6348

[51] قربانی کے جانور سے فائدہ اٹھانا:۔ یہ مقررہ وقت وہ وقت ہے جب قربانی کا جانور حرم کی حدود میں یا مذبح میں پہنچ جائے۔ اس سے ان قربانی کے جانوروں سے یہی کئی طرح کے فائدے اٹھائے جاسکتے ہیں۔ مثلًا بوقت ضرورت ان پر سوار ہونا، ان کا دودھ دوہنا، ان کی اون حاصل کرنا ان سے نسل چلانا وغیرہ وغیرہ۔ جیسا کہ اسی سورۃ کی آیت نمبر 29 کے تحت درج شدہ حدیث نمبر 17 سے واضح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قربانی کا جانور ہانکنے والے ایک شخص کو اس پر سوار ہوجانے کا تاکید سے حکم دیا تھا۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قربانی کے جانوروں سے فائدہ حاصل کرنا تعظیم کے منافی نہیں بلکہ تعظیم کا تعلق دل سے ہے۔ دل میں ان اشیاء کی محبت اور قدر ضرور ہونی چاہئے۔ نیز قربانی کے جانوروں سے کوئی فائدہ حاصل نہ کرنا مشرکوں کا کام تھا کہ جس جانور کو کسی بت کے نام منسوب کرتے تو اس سے کچھ فائدہ حاصل کرنے کو گناہ سمجھتے تھے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے یہ وضاحت فرما دی۔

بعض مفسرین نے مقررہ وقت سے مراد یہ لی ہے کہ جب تک جانور کو اللہ کے نام منسوب نہ کردیا جائے یا ہَدی نہ بنا دیا جائے۔ یہ مراد اس لئے درست نہیں کہ اللہ کے نام منسوب کرنے سے تو فوائد حاصل نہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا پھر اس آیت میں اجازت کس چیز کی دی جارہی ہے نیز محولہ بالا حدیث بھی اس اختلاف کا فیصلہ کرنے کے لئے کافی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت