فهرس الكتاب

الصفحة 5224 من 6348

[2] قول وفعل کا تضاد بہت بری خصلت ہے:۔ دوسری اور تیسری آیت کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ انسان دوسروں کو ایسی باتوں کی نصیحت کرے جن پر وہ خود عمل نہ کرتا ہو۔ مثلًا دوسروں کو اور بالخصوص اپنی اولاد کو یہ نصیحت کرے کہ سچ بولنا بہت اچھی عادت ہے لہٰذا ہمیشہ سچ بولا کرو۔ لیکن خود ان سے ایسی باتیں کہے جن سے اس کا جھوٹ واضح ہوجائے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ ایسی لاف زنی مت کرو یا ایسی شیخیاں مت بگھارو جن پر تم عمل پیرا ہو ہی نہیں سکتے، انسان کے قول اور فعل کا تضاد بہت بری خصلت ہے۔ جس سے انسان لوگوں کی نظروں میں گر جاتا ہے اور اللہ تو ایسی بات کو سخت ناپسند کرتا ہے۔ زبان سے ایک بات کہہ دینا آسان ہے لیکن اس کو نباہنا آسان نہیں ہوتا لہٰذا جو بات کرو سوچ سمجھ کر کرو۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت