فهرس الكتاب

الصفحة 4426 من 6348

[59] قریش مکہ کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ اللہ کا رسول کوئی فرشتہ ہونا چاہئے تھا۔ اس اعتراض کے مختلف مقامات پر مختلف جواب مذکور ہیں۔ یہاں یہ جواب دیا جارہا ہے کہ اگر ہم چاہتے تو ہمیں یہ قدرت حاصل ہے کہ تم میں سے ہی فرشتے بنا دیتے۔ پھر جو فرشتہ رسول بن کر آتا سب اس کو دیکھ سکتے۔ اسکی بات سن سکتے اور سمجھ سکتے۔ مگر فرشتوں کی فطرت میں ''اختیار'' نہیں رکھا گیا۔ وہ تو حکم کے بندے ہوتے ہیں اور ان کی اطاعت اضطراری ہوتی ہے اختیاری نہیں ہوتی۔ اور یہ بات ہماری مشیئت کے خلاف ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت