[9] یعنی کبھی تو کہتے تھے کہ کوئی عجمی اسے قرآن سکھا جاتا ہے پھر وہ سے اپنی طرف سے ہم پر پیش کرکے کہتا ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے جو مجھ پرنازل ہوا ہے۔ اور جب آپ یہ دعویٰ کرتے تھے کہ اگر تم لوگ اللہ کی دعوت پر ایمان لے آؤ تو تم عرب و عجم کے مالک بن جاؤ گے۔ تو آپ کو دیوانہ کہنے لگتے تھے۔ گویا یہ دونوں الگ الگ مواقع پر کافروں کے الزامات ہیں۔ جو یہاں اکٹھے کردیئے گئے ہیں۔