[56] قوم عاد کا بیان پہلے سورۃ اعراف کی آیت نمبر 65 تا 72 میں گذر چکا ہے لہٰذا وہ حواشی بھی ملحوظ رکھے جائیں۔
[57] یعنی اپنے معبودوں کے متعلق جو عقائد تم نے خود ہی گھڑ رکھے ہیں ان کے لیے کوئی دلیل موجود نہیں عقائد کے علاوہ ان معبودوں کے مجسمے بھی تمہارے خود ساختہ ہیں۔