فهرس الكتاب

الصفحة 5194 من 6348

[15] اس سے مراد عبداللہ بن ابی ّرئیس المنافقین کی طرف سے بنونضیر کے نام وہ پیغام ہے۔ جس نے یہود کو مزید سرکش بنا دیا تھا۔ اور یہی لوگ منافقوں کے حقیقتًا بھائی تھے۔ اور جس کی تفصیل پہلے اسی سورۃ کی آیت نمبر 2 کے حواشی میں گزر چکی ہے۔ اس پیغام کا آخری حصہ یہ تھا کہ یہ ہمارا اٹل اور قطعی فیصلہ ہے۔ کہ ہم ضرور تمہاری مدد کو پہنچیں گے۔ تمہارے معاملہ میں ہم اس کے خلاف کسی مسلمان کی بات نہیں مانیں گے نہ اس کی کچھ پروا سمجھیں گے۔

[16] یعنی جو پیغام انہوں نے یہودیوں کو بھیجا ہے۔ وہ بھی سرا سر جھوٹ ہے۔ جس سے وہ یہودیوں کو مسلمانوں کے خلاف اکسا رہے ہیں کہ وہ دلیر ہو کر جنگ لڑیں تو ہمارا کام از خود ہی بن جائے گا اور مسلمانوں سے نجات مل جائے گی۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ یہ منافق نہ لڑائی میں ان کا ساتھ دینے کی نیت رکھتے ہیں اور نہ جلاوطنی میں۔ اور اگر وہ لڑائی میں حصہ لیں بھی تو دم دبا کر بھاگ نکلیں گے۔ کیونکہ مکار اور دغاباز لوگ ہمیشہ بزدل اور بھگوڑے ہوا کرتے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت