فهرس الكتاب

الصفحة 1220 من 6348

[57] نیت کے فتور سے نعمت چھن جاتی ہے:۔ اس آیت کے الفاظ بڑے وسیع معنی رکھتے ہیں اور اس کے کئی مطلب ہو سکتے ہیں مثلًا ایک یہ کہ ''ما '' کو کسی قوم کی خوشحالی پر محمول کیا جائے۔ اس صورت میں اس کے وہی معنی ہیں جو ترجمہ میں کئے گئے ہیں۔ البتہ مَا بِاَنْفُسِہِمْ کا معنی طرز عمل کے بجائے نیت کا فتور بھی ہوسکتا ہے۔ یعنی جب تک کوئی قوم اللہ تعالیٰ کی فرمانبردار بن کر رہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے وہ نعمت نہیں چھینتا، پھر جب ان لوگوں کی نیتوں میں فتور آ گیا یا بگاڑ پیدا ہوگیا۔ تو اللہ تعالیٰ کی نعمت بھی ان سے چھین لی جاتی ہے۔

اور اگر ''ما'' کو کسی قوم کی بدحالی اور مصائب پر محمول کیا جائے تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ جو قوم بدحالی اور مصائب کا شکار ہے۔ جب تک وہ خود اپنی اس پریشانی اور بدحالی کو بدلنے کی کوشش نہ کرے گی۔ اللہ بھی انہیں اسی حال میں رہنے دیتا ہے اور اس کی بدحالی کو دور نہیں کرتا جیسا کہ حالی نے کہا ہے

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی۔۔۔۔۔ نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت بدلنے کا

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت