[ 42] یعنی وہ ان فریاد کرنے والے اہل دوزخ کے متعلق خوب جانتا ہے کہ وہ اب بھی جھوٹ بک رہے ہیں۔ ان کی افتاد طبع ہی ایسی ہے کہ اگر انہیں دنیا میں بھیج بھی دیا جائے تو اپنی خباثتوں اور شرارتوں سے کبھی باز نہ آئیں گے جیسا کہ سورۃ انعام میں فرمایا: { وَلَوْرُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُھُوْا عَنْہُ وَإنَّھُمْ لَکَاذِبُوْنَ} (6: 28)