فهرس الكتاب

الصفحة 4758 من 6348

[28] یہ لوگ طبعی حدود بھی پھاند گئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے تو جنسی خواہش کی تکمیل کے لیے عورت کو پیدا کیا تھا۔ مگر انہوں نے عورت کو چھوڑ کر مردوں سے ہی یہ خواہش پوری کرنا شروع کردی تھی۔ علاوہ ازیں سب اخلاقی اور قانونی حدود بھی پھاند گئے تھے۔ اسی وجہ سے ان کا مجرم قوم کے طور پر تعارف کرایا گیا۔

[29] اس کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ یہ پتھر صرف مجرم قوم کے افراد ہی کو ہلاک کریں گے۔ اگر کسی دوسرے کو لگ بھی جائیں تو اسے ہلاک نہیں کریں گے۔ اور دوسرے یہ کہ ہر پتھر پر نشان کردیا گیا تھا کہ وہ فلاں شخص کو ہلاک کرے گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت