[31] یعنی اس وقت تک ان ہٹ دھرموں کے ہوش و حواس ٹھکانے نہیں آئیں گے جب تک یہ دوزخ کے عذاب کو دیکھ نہ لیں۔ اس وقت ان کی سب شیخیاں کر کری ہوجائیں گی۔ اس وقت وہ یہ آرزو کریں گے کہ کاش انہیں دوبارہ دنیا میں جانے کا موقع میسر ہو تو ہم یقینا اللہ کے فرمانبردار بندے بن کے رہیں گے۔