فهرس الكتاب

الصفحة 3766 من 6348

[ 29] قوم اس کی اس قدر دشمن بن گئی تھی کہ اسے جان سے ہی مار ڈالا۔ مگر اس کا اخلاق اس قدر بلند تھا کہ اپنے جانی دشمنوں کے لئے بددعا کے بجائے ان کے حق میں خیر خواہی کی بات ہی اس کے ذہن میں آئی۔ اگر اسے کچھ تمنا تھی تو صرف یہ کہ کاش میری قوم کو یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ نے مجھ پر کس قدر انعام و کرام کئے ہیں۔ تو شاید وہ بھی ایمان لے آئیں۔ اس قصہ کو بیان کرکے اللہ تعالیٰ نے دراصل کفار مکہ کو اس بات پر آمادہ کیا ہے کہ جس طرح وہ مرد صالح اپنی قوم کا سچا ہمدرد اور خیر خواہ تھا، اسی طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی تمہارے سچے خیر خواہ ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت