فهرس الكتاب

الصفحة 1001 من 7481

کتاب: نماز کے احکام ومسائل

1001 حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، جَمِيعًا عَنْ هُشَيْمٍ، قَالَ ابْنُ الصَّبَّاحِ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا} [الإسراء: 110] قَالَ: نَزَلَتْ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَارٍ بِمَكَّةَ، فَكَانَ إِذَا صَلَّى بِأَصْحَابِهِ رَفَعَ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ، فَإِذَا سَمِعَ ذَلِكَ الْمُشْرِكُونَ سَبُّوا الْقُرْآنَ وَمَنْ أَنْزَلَهُ وَمَنْ جَاءَ بِهِ، فَقَالَ اللهُ تَعَالَى لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ} [الإسراء: 110] «فَيَسْمَعَ الْمُشْرِكُونَ قِرَاءَتَكَ» {وَلَا تُخَافِتْ بِهَا} [الإسراء: 110] «عَنْ أَصْحَابِكَ أَسْمِعْهُمُ الْقُرْآنَ وَلَا تَجْهَرْ ذَلِكَ الْجَهْرَ» {وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا} [الإسراء: 110] ، «يَقُولُ بَيْنَ الْجَهْرِ وَالْمُخَافَتَةِ»

سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان: {ولا تجہر بصلاتک ولا تخافت بہا} '' اور اپنی نماز نہ بلند آواز سے پڑھیں اور نہ اسے پست کریں'' کے بارے میں روایت کی، انہوں نے کہا: یہ آیت اس وقت اتری جب رسول اللہﷺ مکہ میں پوشیدہ (عبادت کرتے) تھے۔ جب آپ اپنے ساتھیوں کو جماعت کراتے تو قراءت بلند آواز سے کرتے تھے، مشرک جب یہ قراءت سنتے تو قرآن کو، اس کے نازل کرنے والے کو اور اس کے لانے والے کو برا بھلا کہتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ کو ہدایت کی: '' اپنی نماز میں (آواز کو اس قدر) بلند نہ کریں'' کہ آپ کی قراءت مشرکوں کو سنائی دے '' اور نہ اس (کی آواز) کو پست کریں'' اپنے ساتھیوں سے، انہیں قرآن سنائیں اور آواز اتنی زیاد اونچی نہ کریں ''اور ان (دونوں) کے درمیان کی راہ اختیار کریں۔'' (اللہ تعالیٰ) فرماتا ہے: بلند اور آہستہ کے درمیان (میں رہیں۔)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت