فهرس الكتاب

الصفحة 771 من 7481

کتاب: حیض کا معنی و مفہوم

771 وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ جَمِيعًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ح، وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُمَا قَالَ: إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا وَقَالَ: ابْنُ رَافِعٍ -، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: لَمَّا بُنِيَتِ الْكَعْبَةُ ذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَبَّاسٌ يَنْقُلَانِ حِجَارَةً. فَقَالَ الْعَبَّاسُ، لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اجْعَلْ إِزَارَكَ عَلَى عَاتِقِكَ مِنَ الْحِجَارَةِ، فَفَعَلَ فَخَرَّ إِلَى الْأَرْضِ وَطَمَحَتْ عَيْنَاهُ إِلَى السَّمَاءِ، ثُمَّ قَامَ فَقَالَ: «إِزَارِي إِزَارِي» فَشَدَّ عَلَيْهِ إِزَارَهُ قَالَ ابْنُ رَافِعٍ فِي رِوَايَتِهِ: عَلَى رَقَبَتِكَ، وَلَمْ يَقُلْ: عَلَى عَاتِقِكَ

اسحاق بن ابراہیم حنظلی اور محمد بن حاتم نے محمد بن بکر سے روایت کی ، دونوں نےکہا: ہمیں ابن جریج نےخبر دی،نیز اسحاق بن منصور اور محمد بن رافع نے ( اور یہ الفاظ ان دونوں کے ہیں ) عبد الرزاق کے حوالے سے ابن جریج سے حدیث بیان کی ، انہوں ( ابن جریج) نے کہا: مجھے عمرو بن دینار نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت جابر ﷜ سے سنا، کہہ رہے تھے: جب کعبہ تعمیر کیا گیا توعبا﷜ اور نبی ﷺ پتھر ڈھونے لگے، حضرت عباس﷜ نے نبی ﷺ سے کہا: پتھروں سے حفاظت کے لیے اپنا تہبند اٹھا کر کندھے پر رکھ لیجیے ۔ آپ نے ایسا کیا تو آپ زمین پر گر گئے اورآنکھیں ( اوپر ہو کر) آسمان پر ٹک گئیں ، پھر آپ اٹھے اور کہا:''میرا تہبند ، میرا تہبند۔'' تو آپ کا تہبند آپ کو کس کر باندھ دیا گیا ۔

ابن رافع کی روایت میں علی رقبتک (اپنی گردن پر ) کے الفاظ ہیں ، انہوں علی عاتقک ( اپنے کندھے پر ) نہیں کہا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت