فهرس الكتاب

الصفحة 3562 من 7481

کتاب: نکاح کے احکام و مسائل

3562 وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ أَتَى بِامْرَأَةٍ مُجِحٍّ عَلَى بَابِ فُسْطَاطٍ، فَقَالَ: «لَعَلَّهُ يُرِيدُ أَنْ يُلِمَّ بِهَا» ، فَقَالُوا: نَعَمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَلْعَنَهُ لَعْنًا يَدْخُلُ مَعَهُ قَبْرَهُ، كَيْفَ يُوَرِّثُهُ وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ؟ كَيْفَ يَسْتَخْدِمُهُ وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ؟

محمد بن جعفر نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے یزید بن خُمَیر سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے عبدالرحمٰن بن جبیر سے سنا وہ اپنے والد (جبیر بن نفیر) سے حدیث بیان کر رہے تھے، انہوں نے ابودرداء رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خیمے کے دروازے پر کھڑی ایک پورے دِنوں کی حاملہ عورت (لونڈی) کے پاس سے گزرے، آپ نے فرمایا:"شاید وہ (اس کا مالک) چاہتا ہے کہ اس کے ساتھ مجامعت کرے؟"صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی: جی ہاں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"میں نے ارادہ کیا کہ اس پر ایسی لعنت بھیجوں جو اس کی قبر میں اس کے ساتھ جائے۔ ایسا کام کرنے والا کیسے اس (طرح کے بچے) کو وارث بنائے گا، جبکہ وہ (وارث بنانا) اس کے لیے حلال نہیں۔ وہ کیسے اس سے خدمت لے گا (اسے غلام بنائے گا؟) جبکہ (اس بچے کے پیٹ میں ہونے کے دوران میں اس کی ماں سے مباشرت کرنے کی بنا پر اس بچے/بچی کو غلام/کنیز بنانا) اس کے لیے حلال نہیں"

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت