فهرس الكتاب

الصفحة 3637 من 7481

کتاب: رضاعت کے احکام ومسائل

3637 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَارِبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ تَزَوَّجْتَ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «أَبِكْرًا، أَمْ ثَيِّبًا؟» قُلْتُ: ثَيِّبًا، قَالَ: «فَأَيْنَ أَنْتَ مِنَ الْعَذَارَى، وَلِعَابِهَا» ، قَالَ شُعْبَةُ: فَذَكَرْتُهُ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، فَقَالَ: قَدْ سَمِعْتَهُ مِنْ جَابِرٍ، وَإِنَّمَا قَالَ: «فَهَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ»

شعبہ نے ہمیں محارب سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے ایک عورت سے شادی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا:"کیا تم نے نکاح کیا ہے؟"میں نے عرض کی: جی ہاں۔ آپ نے پوچھا:"کنواری سے یا دوہاجو (ثیبہ) سے؟"میں نے عرض کی: دوہاجو سے۔ آپ نے فرمایا:"تم کنواریوں اور ان کی ملاعبت (باہم کھیل کود) سے (دور) کہاں رہ گئے؟"

شعبہ نے کہا: میں نے یہ حدیث عمرو بن دینار کے سامنے بیان کی تو انہوں نے کہا: میں نے یہ حدیث حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنی تھی اور انہوں نے کہا تھا:"تم نے کنواری سے (شادی) کیوں نہ کی؟ تم اس کے ساتھ کھیلتے وہ تمہارے ساتھ کھیلتی"

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت