فهرس الكتاب

الصفحة 3636 من 7481

کتاب: رضاعت کے احکام ومسائل

دیندار عورت سے نکاح کرنا پسندیدہ ہے

3636 وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَقِيتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «يَا جَابِرُ تَزَوَّجْتَ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «بِكْرٌ، أَمْ ثَيِّبٌ؟» قُلْتُ: ثَيِّبٌ، قَالَ: «فَهَلَّا بِكْرًا تُلَاعِبُهَا؟» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ: إِنَّ لِي أَخَوَاتٍ، فَخَشِيتُ أَنْ تَدْخُلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُنَّ، قَالَ: «فَذَاكَ إِذَنْ، إِنَّ الْمَرْأَةَ تُنْكَحُ عَلَى دِينِهَا، وَمَالِهَا، وَجَمَالِهَا، فَعَلَيْكَ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ»

عطاء سے روایت ہے، کہا: مجھے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک عورت سے شادی کی، میری ملاقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی تو آپ نے پوچھا:"جابر! تم نے نکاح کر لیا ہے؟"میں نے عرض کی: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا:"کنواری ہے یا دوہاجو (شوہر دیدہ) ؟"میں نے عرض کی: دوہاجو۔ آپ نے فرمایا:"باکرہ سے کیوں نہ کی، تم اس سے دل لگی کرتے؟"میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میری بہنیں ہیں تو میں ڈرا کہ وہ میرے اور ان کے درمیان حائل ہو جائے گی، آپ نے فرمایا:"پھر ٹھیک ہے، بلاشبہ کسی عورت سے شادی (میں رغبت) اس کے دین، مال اور خوبصورتی کی وجہ سے کی جاتی ہے، تم دین والی کو چنو تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں"

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت