فهرس الكتاب

الصفحة 2952 من 7481

کتاب: حج کے احکام ومسائل

2952 حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَابِرٍ، فِي حَدِيثِهِ ذَلِكَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «نَحَرْتُ هَاهُنَا، وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ، فَانْحَرُوا فِي رِحَالِكُمْ، وَوَقَفْتُ هَاهُنَا، وَعَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ، وَوَقَفْتُ هَاهُنَا، وَجَمْعٌ كُلُّهَا مَوْقِفٌ»

حضرت جعفر ؒ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، (کہا:) مجھے میرے والد نے جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کردہ اپنی اس حدیث میں یہ بھی بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"میں نے یہاں قربانی کی ہے۔ (لیکن) پورا منیٰ قربان گاہ ہے،اس لئے تم اپنے اپنے پڑاؤ ہی پر قربانی کرو،میں نے اسی جگہ وقوف کیا ہے (لیکن) پورا عرفہ ہے مقام وقوف ہے اور میں نے (مزدلفہ میں ) یہاں وقوف کیا ہے (ٹھہرا ہوں۔) اور پورا مزدلفہ موقف ہے(اس میں کہیں بھی پڑاؤ کیا جاسکتاہے۔"

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت