فهرس الكتاب

الصفحة 4602 من 7481

کتاب: جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہﷺ کے اختیار کردہ طریقے

4602 وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: نَادَى فِينَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ انْصَرَفَ عَنِ الْأَحْزَابِ «أَنْ لَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ الظُّهْرَ إِلَّا فِي بَنِي قُرَيْظَةَ» ، فَتَخَوَّفَ نَاسٌ فَوْتَ الْوَقْتِ، فَصَلَّوْا دُونَ بَنِي قُرَيْظَةَ، وَقَالَ آخَرُونَ: لَا نُصَلِّي إِلَّا حَيْثُ أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنْ فَاتَنَا الْوَقْتُ، قَالَ: فَمَا عَنَّفَ وَاحِدًا مِنَ الْفَرِيقَيْنِ

حضرت عبداللہ (بن عمر رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے، جس روز آپ جنگِ احزاب سے لوٹےہم میں منادی کرائی کہ کوئی شخص بنو قریظہ کے سوا کہیں اور نمازِ ظہر ادا نہ کرے۔ کچھ لوگوں کو وقت نکل جانے کا خوف محسوس ہوا تو انہوں نے بنو قریظہ (پہنچنے) سے پہلے ہی نماز پڑھ لی، جبکہ دوسروں نے کہا: چاہے وقت ختم ہو جائے ہم وہیں نماز پڑھیں گے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے۔ کہا: تو آپ نے فریقین میں سے کسی کو بھی ملامت نہ کی

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت