فهرس الكتاب

الصفحة 3725 من 7481

کتاب: طلاق کے احکام ومسائل

3725 وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، هَذِهِ الْأَحَادِيثَ الثَّلَاثَةَ، قَالَ: قَالَتْ زَيْنَبُ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ تُوُفِّيَ أَبُوهَا أَبُو سُفْيَانَ، فَدَعَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِطِيبٍ فِيهِ صُفْرَةٌ خَلُوقٌ - أَوْ غَيْرُهُ - فَدَهَنَتْ مِنْهُ جَارِيَةً، ثُمَّ مَسَّتْ بِعَارِضَيْهَا، ثُمَّ قَالَتْ: وَاللهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ، غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ: «لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا»

حمید بن نافع نے زینب بنت ابی سلمہ سے روایت کی کہ انہوں نے اِن (حمید) کو یہ تین حدیثیں بیان کیں، کہا: زینب رضی اللہ عنہا نے کہا: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے والد ابوسفیان رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو میں ان کے ہاں گئی، ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے زرد رنگ ملی مخلوط یا کوئی اور خوشبو منگوائی، اس میں سے (پہلے) ایک بچی کو لگائی (تاکہ) ہاتھ پر اس کی مقدار بہت کم ہو جائے) پھر اپنے رخساروں پر ہاتھ مل لیا، پھر کہا: اللہ کی قسم! مجھے خوشبو کی ضرورت نہ تھی مگر (بات یہ ہے کہ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ منبر پر ارشاد فرما رہے تھے:"کسی عورت کے لیے جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو، حلال نہیں کہ وہ کسی بھی مرنے والے پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے مگر خاوند پر، چار ماہ دس دن (سوگ منائے"

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت