فهرس الكتاب

الصفحة 3726 من 7481

کتاب: طلاق کے احکام ومسائل

وفات کی عدت میں سوگ ضروری ہے اس کے علاوہ تین دن سے زیادہ سوگ منانا حرام ہے

3726 قَالَتْ زَيْنَبُ: ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حِينَ تُوُفِّيَ أَخُوهَا، فَدَعَتْ بِطِيبٍ، فَمَسَّتْ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَتْ: وَاللهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ، غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ: «لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، تُحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا

زینب (بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا) نے کہا: پھر میں زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ہاں اس وقت گئی جب ان کے بھائی (عبیداللہ بن جحش) فوت ہوئے، تو انہوں نے بھی خوشبو منگوائی اور لگائی، پھر کہا: اللہ کی قسم! مجھے خوشبو کی ضرورت نہ تھی مگر (بات یہ ہے کہ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ منبر پر ارشاد فرما رہے تھے:"کسی عورت کے لیے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے، حلال نہیں کہ وہ کسی مرنے والے پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے مگر شوہر پر، چار مہینے دس دن (سوگ کرے"

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت