فهرس الكتاب

الصفحة 748 من 7481

کتاب: حیض کا معنی و مفہوم

748 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ عَمْرٌو: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ صَفِيَّةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَأَلَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. كَيْفَ تَغْتَسِلُ مِنْ حَيْضَتِهَا؟ قَالَ: فَذَكَرَتْ أَنَّهُ عَلَّمَهَا كَيْفَ تَغْتَسِلُ. ثُمَّ تَأْخُذُ فِرْصَةً مِنْ مِسْكٍ فَتَطَهَّرُ بِهَا. قَالَتْ: كَيْفَ أَتَطَهَّرُ بِهَا؟ قَالَ: «تَطَهَّرِي بِهَا سُبْحَانَ اللهِ» وَاسْتَتَرَ - وَأَشَارَ لَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ بِيَدِهِ عَلَى وَجْهِهِ - قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: وَاجْتَذَبْتُهَا إِلَيَّ وَعَرَفْتُ مَا أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقُلْتُ: تَتَبَّعِي بِهَا أَثَرَ الدَّمِ وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ فِي رِوَايَتِهِ، فَقُلْتُ: تَتَبَّعِي بِهَا آثَارَ الدَّمِ

عمرو بن محمد ناقد اور ابن ابی عمر نے سفیان بن عیینہ سے حدیث بیان کی ، عمرو نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے منصور بن صفیہ سے ، انہوں نے اپنی والدہ (صفیہ بنت شیبہ ) سے ، انۂں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ، انہوں نے کہا:ایک عورت نبی ﷺ سے پوچھا: وہ غسل حیض کیسے کرے ؟ کہا:پھر عائشہ ؓ نےبتایا کہ آپ نے اسے غسل کا طریقہ سکھایا ( اور فرمایا) پھر وہ کستوری سے ( معطر) کپڑے کا ایک ٹکڑالے کر اس سے پاکیزگی حاصل کرے ۔ عورت نے کہا: میں اس سے کیسے پاکیزگی حاصل کروں؟ آپ نے فرمایا:'' سبحان اللہ ! اس سے پاکیزگی حاصل کرو ۔ '' اور آپ نے (حیا سے ) چہرہ چھپا کر دکھایا۔ صفیہ نےکہا: عائشہ ؓ نے فرمایا: میں نے اس عورت کو اپنی طرف کھینچ لیا اور میں سمجھ گئی تھی کہ رسول اللہ ﷺ کیا ( کہنا) چاہتے ہیں تو میں نےکہا: اس معطر ٹکڑے سے خون کے نشان صاف کرو۔ ابن ابی عمرو نے اپنی روایت میں کہا: اس کو مل کر خون کے نشانات پر لگا کر صاف کرو ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت