فهرس الكتاب

الصفحة 3294 من 7481

کتاب: حج کے احکام ومسائل

3294 حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ حُسَيْنٍ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، أَخْبَرَهُ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَتَنْزِلُ فِي دَارِكَ بِمَكَّةَ؟ فَقَالَ «وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مِنْ رِبَاعٍ، أَوْ دُورٍ» ، «وَكَانَ عَقِيلٌ وَرِثَ أَبَا طَالِبٍ هُوَ وَطَالِبٌ، وَلَمْ يَرِثْهُ جَعْفَرٌ، وَلَا عَلِيٌّ شَيْئًا لِأَنَّهُمَا كَانَا مُسْلِمَيْنِ، وَكَانَ عَقِيلٌ وَطَالِبٌ كَافِرَيْنِ»

یو نس بن یزید نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی کہ علی بن حسین نے انھیں خبر دی کہ عمرو بن عثمان بن عفان نے انھیں اسامہ بن یزید بن حا رثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی انھوں نے پو چھا: اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ مکہ میں اپنے (آبائی) گھر میں قیام فر ما ئیں گے؟آپ نے فر ما یا:"کیا عقیل نے ہمارے لیے احا طوں یا گھروں میں سے کو ئی چیز چھوڑی ہے۔"

اور طالب ابو طا لب کے وارث بنے تھے اور جعفر اور علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے کو ئی چیز وراثت میں حا صل نہ کی ،کیونکہ وہ دونوں مسلمان تھے ،جبکہ عقیل اور طالب کا فر تھے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت